پی ایس ایل سیکس ملتوی ہونے کا ذمہ دار کون تھا کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اس میں جو پہلے نقصان ہو جاتے ہیں ان سے سیکھنا پڑتا ہے
لیگ میں یہ حکمت عملی پوری طرح نہ عمل ہوسکا پاکستان سپر لیگ سیزن فائیو اچھی یادوں کے ساتھ اختتام ہواتھا پہ چھٹ آڈیشن جس شور و ہنگامے سے شروع ہوا تھا اتنی تیزی سے یہ التوا کا شکار ہوگیا اس کے لئے صرف پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانبسے بہت سارے دعوے کیے گئے تھے تھے ہی اس ایونٹ کو جس طرحمحفوظ بنانے کا دعویٰ کیاوہ اس کو پورا نہ کر سکے اوراسی بنیاد پر پی ایس ایل سیکس ملتوی ہو گیا
اس میں نہ صرف منیجمنٹ کی غلطی تھی بلکہ کھلاڑیوں نے بھی بھرپور حصہ ڈالاپی سی بی کا کھلاڑیوں اور انتظامیہ سے حفاظتی تدابیر پر عمل کرنے میں ناکام رہے اس کے لیے طے کردہ اصول پر سختی سے عملدرآمد کیا جاتا توچھٹا آڈیشن ملتوی ہونے سے بچ جاتا اس کے لیے کسی ایک کو اس کا قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتالیکن پاکستان کرکٹ بورڈ میں صرف ایک شخص کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے اس کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا اس سب کی ذمہ داری پاکستانی کرکٹ بورڈ کےمیڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل سلیم پر ڈال دی گئی پی سی بی کی طرف سے یہی کہا گیا تھا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذمہ دار سے ایک شخص ہوتا ہے ہےڈاکٹر سہیل سلیم 2007 سے پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کر رہے تھے تےانہوں نے دور نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے وقت بہت کامیاب پریسی بنائے جیسے پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی کرونا وائرس سے متاثر لوگ ان پر عمل کرکے ڈاکٹر سلیم صاحب نے کہا کہ میرا کام صرف پی سی بی کو تمام پالیسی بنا کے دینا تھا اس پر عمل کروانا میرا کام نہیں تھا لیکن پی ایس ایل کے ملتوی ہونے کی ذمہ داری ان پر ڈال دی گئی ہے اور انہوں نے نے اپنا استعفی دے دیا