اتوار، 30 مئی، 2021

سرفراز PCB سےہوےکیوں شدیدنراز

  کھلاڑی پی ایس ایل کی کھیلنے کے لیے کیوں نہ روا نہ ہوسکے 










آج صبح سویرے 25 کھلاڑی  نے پاکستان سے روانہ ہونا تھاجن میں کھلاڑی اور آفیشلز شامل تھےلیکن ان کو جو دبئی جانے

 سے   روک دیا گی دس کھلاڑی لاہور سے روانہ ہونا تھے15 کھلاڑی کراچی سے روانہ ہونا تھے کراچی سے روانہ ہونے والے کھلاڑیوں میں سرفراز احمد بھی  شامل ہے لیکن ٹکٹ ایشوز ڈاکومنٹیشن ایشوز ز کی وجہ سےکوئی بھی  روانا نہیں ہو اس طرح ایئرپورٹ پر گہماگہمی رہیاور 25 کھلاڑیوں کو بھی ویزا  نہ مل سکے 16 لوگوں نے کراچی سے روانہ ہونا تھاکراچی ایئرپورٹ سے روانہ ہوکر دبئی پہنچنا تھا ان کے پہنچنے کا ٹائم 2.30 تھا لیکن کوئی بھی نہیں پہنچ سکا25   میں سے 16 لوگوں ویزا ملا اور باقی لوگوں کو ویزا  نہ مل سکا فراز احمد  حسنین اور چھ کھلاڑیوں نے کراچی ایئرپورٹ سے روانہ ہونا تھا ڈاکومنٹ کمپلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ائیر پورٹ پر ہی روک لیا گیاایئرپورٹ عملے نے کہا  آپ کے ڈاکومنٹ ہمارے سسٹم میں مکمل نہیں جس پر سرفراز احمد ناراض ہوگئے اور غصہ میں گھر چلے گئے سرفراز احمد کو دو سے تین گھنٹے ایئرپورٹ انتظار کرناپڑاموسی خان اور دوسرے دس کھلاڑی لاہور سے روانہ نہیں ہو سکے 


سرفراز احمد کو ایئرپورٹ سے ہوٹل بھیج دیا گیا جہاں وہ  سات دنوں آئسولیشن میں  ہیں جس پر سرفراز احمد نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے ناراضگی کا اظہار کیاتمام کھلاڑیوں کی کلیرنس کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے نے یو اے ای اے سپورٹس کونسل سے رابطہ کیا ہےپاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں یو اے ای روانگی کے لیے متبادل بندوبست کے لیے  سوچ رہے ہیں  فاسٹ بولر محمد حسنین یو اے پی روانہ ہو گئے ہیں ہیں   


جمعرات، 6 مئی، 2021

پی ایس ایل سیکس کے ملتوی ہونے کا ذمہ دار کون تھا

پی ایس ایل سیکس ملتوی ہونے کا ذمہ دار کون تھا                                                                                        کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اس میں جو پہلے نقصان ہو جاتے ہیں ان سے سیکھنا پڑتا ہے                

 لیگ میں یہ حکمت عملی پوری طرح نہ عمل ہوسکا پاکستان سپر لیگ سیزن فائیو اچھی یادوں کے ساتھ اختتام ہواتھا پہ چھٹ آڈیشن جس شور و ہنگامے سے شروع ہوا تھا اتنی تیزی سے یہ التوا کا شکار ہوگیا اس کے لئے صرف پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانبسے بہت سارے دعوے کیے گئے تھے تھے ہی  اس ایونٹ کو جس طرحمحفوظ بنانے کا دعویٰ کیاوہ اس کو پورا نہ کر سکے  اوراسی بنیاد پر پی ایس ایل سیکس ملتوی ہو گیا                                          

 اس میں نہ صرف منیجمنٹ کی غلطی تھی بلکہ کھلاڑیوں نے بھی بھرپور حصہ ڈالاپی سی بی کا کھلاڑیوں اور انتظامیہ سے حفاظتی تدابیر پر عمل کرنے میں ناکام رہے اس کے لیے طے کردہ اصول پر سختی سے عملدرآمد کیا جاتا توچھٹا آڈیشن ملتوی ہونے سے بچ جاتا اس کے لیے کسی ایک کو اس کا قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتالیکن پاکستان کرکٹ بورڈ میں صرف ایک شخص کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے اس کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا اس سب کی ذمہ داری پاکستانی کرکٹ بورڈ کےمیڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل سلیم پر ڈال دی گئی  پی سی بی کی طرف سے یہی کہا گیا تھا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذمہ دار سے ایک شخص ہوتا ہے ہےڈاکٹر سہیل سلیم 2007 سے پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کر رہے تھے تےانہوں نے دور نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے وقت بہت کامیاب پریسی بنائے جیسے پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی کرونا وائرس سے متاثر لوگ ان پر عمل کرکے ڈاکٹر سلیم صاحب نے کہا کہ میرا کام صرف پی سی بی کو تمام پالیسی بنا کے دینا تھا اس پر عمل کروانا میرا کام نہیں تھا  لیکن پی ایس ایل کے  ملتوی ہونے کی ذمہ داری ان پر ڈال دی گئی ہے اور انہوں نے نے اپنا استعفی دے دیا